اشاعتیں

مارچ, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

: : قصائی کی چالاکیوں سے بچیں اور خالص گوشت خریدیں

تصویر
     قصائی کی چالاکیوں سے بچیں اور خالص گوشت خریدیں پاکستان میں گوشت خریدنا ایک فن ہے، جو ہر شخص کو آنا چاہیے۔ خاص طور پر اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پیسے کا پورا فائدہ ہو اور آپ خالص، تازہ اور معیاری گوشت خریدیں، تو آپ کو کچھ اہم نکات کو سمجھنا ہوگا۔ اکثر لوگ قصائی کی دکان پر جا کر عام الفاظ میں "بھیا، ایک کلو گوشت دے دو" کہہ کر اپنی کم علمی ظاہر کر دیتے ہیں، جس کا فائدہ قصائی اٹھاتا ہے اور آپ کو ایسا گوشت دیتا ہے جس میں ہڈی زیادہ، بوٹیاں کم، اور اکثر پانی ملا ہوتا ہے۔ اگر آپ سمجھدار خریدار بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو قصائی کی نفسیات، گوشت کے مختلف حصوں، تازہ اور باسی گوشت کی پہچان، پانی ملے گوشت کی شناخت، اور گوشت کے وزن میں دھوکہ دہی جیسے عوامل کو سمجھنا ہوگا۔ اس بلاگ میں ہم ان تمام پہلوؤں پر تفصیل سے بات کریں گے، تاکہ آپ آئندہ بہترین گوشت خرید سکیں۔ https://abcurdun.blogspot.com/2025/03/international-womens-day.html 1. قصائی کی نفسیات کو سمجھیں قصائی ایک تجربہ کار کاروباری ہوتا ہے جو روزانہ سینکڑوں گاہکوں سے ڈیل کرتا ہے۔ جیسے ہی آپ دکان پر داخل ہوتے ہیں، وہ فوراً اندازہ ل...

International Women's Day,. ویمنز ڈے کا آغاز کیسے ہوا؟

تصویر
 ویمنز ڈے 2025. : خواتین کے عالمی دن کی تاریخ، اہمیت، اور خواتین کی ترقی میں کردار ویمنز ڈے 2025: خواتین کے عالمی دن کی تاریخ، اہمیت، اور جدید دنیا میں اس کی ضرورت ویمنز ڈے 2025 پر خصوصی بلاگ! جانئے خواتین کے عالمی دن کی تاریخ، اہمیت، چیلنجز، اور دنیا بھر میں خواتین کی کامیابیوں کے بارے میں تفصیل سے۔ تعارف 8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین (International Women’s Day) منایا جاتا ہے، جو خواتین کے حقوق، مساوات اور کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ اس دن کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو سامنے لانا اور صنفی مساوات (Gender Equality) کو فروغ دینا ہے۔ https://abcurdun.blogspot.com/2025/03/blog-post_11.html یہ بلاگ نہ صرف ویمنز ڈے کی تاریخ اور اہمیت پر روشنی ڈالے گا بلکہ اس کے اصل مقصد، جدید دور میں خواتین کو درپیش مسائل، اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیل سے بات کرے گا۔ --- ویمنز ڈے کی تاریخ اور پس منظر ویمنز ڈے کا آغاز کیسے ہوا؟ ویمنز ڈے کی بنیاد 1908 میں نیویارک میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے سے پڑی، جہاں 15,000 خواتین نے اپنے حقوق، بہ...

"وقت کبھی رکتا نہیں، لیکن کیا ہر تبدیلی ترقی ہوتی ہے؟

تصویر
"پرانے طرز زندگی کی خوبصورتی – کیا ہم واقعی جدیدیت میں کچھ کھو چکے ہیں ؟" پرانے طرز زندگی میں سادگی، محبت اور سکون زیادہ تھا۔ کیا ہم جدید دنیا میں سہولتوں کے باوجود وہ خوشیاں کھو چکے ہیں؟ جانیں پرانے اور جدید دور کے طرزِ زندگی کا موازنہ اس بلاگ میں!"  ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔ آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے! ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟ https://abcurdun.blogspot.com/2025/03/blog-post_7.html ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام ...

کینسر کے مرض کا بڑا علاج دریافت

تصویر
  "کیا خوراک سے کینسر کا علاج ممکن ہے؟ نوجوت سنگھ سدھو کے دعوے اور حقیقت" نوجوت سنگھ سدھو نے دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ نے خوراک میں تبدیلی اور جڑی بوٹیوں کے استعما ل سے چوتھے مرحلے کے کینسر کو شکست دی۔ لیکن کیا واقعی یہ ممکن ہے؟ طبی ماہرین کی رائے اور سائنسی حقائق جاننے کے لیے مکمل بلاگ پڑھیں۔ تعارف کینسر ایک مہلک بیماری ہے جس کا علاج جدید میڈیکل سائنس کی سب سے بڑی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ حال ہی میں، بھارت کے مشہور کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے ایک حیران کن دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ نوجوت کور نے چوتھے مرحلے کے کینسر کو صرف خوراک میں تبدیلی اور قدرتی اجزاء کے ذریعے شکست دی ہے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا اور خبروں میں موضوعِ بحث بن گیا، اور لوگوں میں تجسس پیدا ہوا کہ آیا واقعی خوراک سے کینسر کا علاج ممکن ہے یا نہیں۔ اس بلاگ میں ہم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیں گے، سدھو کی بیان کردہ خوراک کا تجزیہ کریں گے، اور طبی ماہرین کی رائے بھی شامل کریں گے تاکہ حقیقت کو سمجھا جا سکے۔ نوجوت سنگھ سدھو کا دعویٰ نوجوت سنگھ سدھو نے اپنی اہلیہ کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ چوتھے اسٹیج کے کینسر...

یوٹیلیٹی اسٹورز کا مستقبل؟

تصویر
Utility stores      یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی 10 سالہ  مالی کہانی:  خسارے سے منافع تک کا سفر  یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی مالی کارکردگی | 2013-2024 کی تفصیلات، منافع، خسارہ اور کرپشن کیسز پاکستان کے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (USC) کی 2013 سے 2024 تک کی مالیاتی کارکردگی کا مکمل تجزیہ۔ منافع، خسارہ، کرپشن کیسز، ٹیکس ادائیگی، اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی جائزہ۔ تعارف یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (Utility Stores Corporation - USC) پاکستان میں کم آمدنی والے افراد کو رعایتی نرخوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لیے 1971 میں قائم کی گئی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو سبسڈی پر روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے آٹا، چینی، گھی، دالیں اور دیگر اشیائے خوردونوش فراہم کرنا تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ USC کی کارکردگی میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا، اور مالی بدانتظامی، کرپشن، اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے یہ ادارہ خسارے میں چلا گیا۔ 📊 اہم نکات: ✔ 2013  میں یو ایس سی نے 1.4 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔ ❌ 2017-18  تک 8 ارب روپے کا مجموعی خسارہ ہوا۔ 📈 2020  کے ب...

الیکٹرک بائیک کی حقیقت

تصویر
پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی ترقی اور الیکٹرک بائیکس کا مستقبل" "پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اور 2030 تک 4 کروڑ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ کیا الیکٹرک بائیکس پیٹرول بائیکس کی جگہ لے سکیں گی؟ جانیں موٹر سائیکل انڈسٹری کی موجودہ صورتحال، معیشت پر اثرات، اور الیکٹرک بائیکس کے فوائد اور چیلنجز پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی ترقی، موجودہ حیثیت، اور مستقبل میں الیکٹرک بائیکس کا کردار پاکستان میں موٹر سائیکلوں نے گزشتہ ایک دہائی میں معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سستی اور آسان سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ، یہ روزگار، صنعت، اور کاروبار میں بھی نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں۔ آنے والے دس سالوں میں الیکٹرک بائیکس (E-Bikes) پاکستان کے ٹرانسپورٹیشن سسٹم میں انقلاب لا سکتی ہیں، جو ماحولیاتی اور اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔ --- پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی موجودہ صورتحال 1. ملک میں موجودہ تعداد اور روزانہ پیداوار 2025 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) موٹر سائیکلیں زیر استعمال ہیں۔ ...

سستی سواری موت کی وجہ کیوں

تصویر
               "پاکستان میں موٹر سائیکل حادثات   اسباب، اعداد و شمار اور روک تھام کے